Thursday, March 6, 2014

محبت یاد رکھتی ہے


محبت مشوروں، پندونصیحت اور تاویلوں کے 
تابع تو نہیں ہوتی
محبت خود بتاتی ہے کہاں کس کا ٹھکانہ ہے
کسے آنکھوں میں رکھنا ہے کسے دل میں بسانا ہے
رہا کرنا ہے کس کو اور کسے زنجیر کرنا ہے
مٹانا ہے کسے دل سے کسے تحریر کرنا ہے
گھروندا کب گرانا ہے کہاں تعمیر کرنا ہے

محبت مشوروں، پندونصیحت اور تاویلوں کے
تابع تونہیں ہوتی
اسے معلوم ہوتا ہے سفر دشوار کتنا ہے
کسی کی چشمِ گریہ میں چھپا اقرار کتنا ہے
شجر جو گرنے والا ہے وہ سایہ دار کتنا ہے
سفر کی ہرصعوبت اور تمازت یاد رکھتی ہے
جسے سارے بھلا ڈالیں محبت یاد رکھتی ہے

محبت مشوروں، پندونصیحت اور تاویلوں کے
تابع تو نہیں ہوتی
کہ اس کا کوئی بھی موسم کبھی یکساں نہیں ہوتا
کہ اس کا راستہ ہرگز "رضی" ویراں نہیں ہوتا
وہیں امکان ہوتا ہے جہاں امکاں نہیں ہوتا
محبت راستوں میں اِک الگ رستہ بناتی ہے
جہاں کوئی نہیں سنتا وہاں قصہ سناتی ہے

محبت مشوروں، پندونصیحت اور تاویلوں کے 
تابع جو نہیں ہوتی
اسے کیا راستوں میں پھول کتنے دھول کتنی ہے؟
کسی نازک سمے میں جو ہوئی تھی بھول کتنی ہے؟
اسے کیا پھول سے ہاتھوں میں اب تک خار کتنے ہیں؟
یادشمن گھات میں بیٹھے پسِ دیوار کتنے ہیں؟
اسے کیا جاگتی آنکھوں میں پنہاں خواب کیسا ہے؟
اور اِس میں وصل کی خاطر کوئی بیتاب کیسا ہے؟
اسے کیا شام کیسی تلخی ایام کیسی ہے؟
اسے کیا زندگی کس کی کسی کے نام کیسی ہے؟
اسے کیا چاہتوں میں صورتِ آلام کیسی ہے؟

رضی الدین رضی

No comments:

Post a Comment

Shaam K Pech O Kham

شام کے پیچ و خم ستاروں سے زینہ زینہ اُتر رہی ہے رات یوں صبا پاس سے گزرتی ہے جیسے کہہ دی کسی نے پیار کی بات صحنِ زنداں کے بے وطن اش...