مجھ سے ناراض نہ ہو
مجھ سے ناراض نہ ہو
تجھ سے بے چینی کو ٹکرانے کی نیت تو نہیں
تجھ سے گھبرائے ہوئے دن کے تعارف میں مری مرضی
نہیں ہے شامل
تیری ویران خیالی میں مرا ہاتھ نہیں
میں تو کملائی ہوئی شاخ کی مانند ہوں بہت افسردہ
میں تو ذروں کی طرح چُپ ہوں بہت
ایک ہی تلوے تلے
ایک ہی بار،کئی مرتبہ آجاتا ہے دل
اور میں چُپ ہوں بہت
مجھ سے ناراض نہ ہو
تیری ناراضی سے ڈرتی ہے ہوا
اور مجھے غصے سے آ لگتی ہے
اور مری سانسوں کی ترتیب بدل دیتی ہے
تیری ناراضی سے ہوتا ہے سفر خوفزدہ
اور مری راہیں بدل دیتا ہے
اور مرے پاؤں جما دیتا ہے انگاروں پر
میں کئی روز سے کچھ باتوں سے جلتا ہوں بہت
ہائے جو ٹوٹ کے کرتے ہیں محبت وہ لوگ
ہائے جو دل میں بساتے نہیں نفرت وہ لوگ
میں کئی روز مر جاتا ہوں
تیری ناراضی مجھے مارتی ہے
میں کئی روز سے جیتا ہوں بہت
تیرا پچھتاوا مجھے زندہ کیسے رکھتا ہے
مجھ سے ناراض نہ ہو
تیری ناراضی سے شامیں بھی اُڑاتی ہیں مذاق
مجھ پہ ہنستی ہیں بہت راتیں بھی
اور مجھے دیر تلک تکتی ہیں برساتیں بھی
مجھ سے ناراض نہ ہو
میں نے ملنا بھی بہت ہے تم سے
اور کرنا ہیں بہت باتیں بھی
مجھ سے ناراض نہ ہو
فرحت عباس شاہ
No comments:
Post a Comment