Sunday, January 18, 2015

مجھ سے ناراض نہ ہو

مجھ سے ناراض نہ ہو
تجھ سے بے چینی کو ٹکرانے کی نیت تو نہیں
تجھ سے گھبرائے ہوئے دن کے تعارف میں مری مرضی 
نہیں ہے شامل
تیری ویران خیالی میں مرا ہاتھ نہیں
میں تو کملائی ہوئی شاخ کی مانند ہوں بہت افسردہ
میں تو ذروں کی طرح چُپ ہوں بہت
ایک ہی تلوے تلے
ایک ہی بار،کئی مرتبہ آجاتا ہے دل
اور میں چُپ ہوں بہت
مجھ سے ناراض نہ ہو
تیری ناراضی سے ڈرتی ہے ہوا
اور مجھے غصے سے آ لگتی ہے
اور مری سانسوں کی ترتیب بدل دیتی ہے
تیری ناراضی سے ہوتا ہے سفر خوفزدہ
اور مری راہیں بدل دیتا ہے
اور مرے پاؤں جما دیتا ہے انگاروں پر
میں کئی روز سے کچھ باتوں سے جلتا ہوں بہت
ہائے جو ٹوٹ کے کرتے ہیں محبت وہ لوگ
ہائے جو دل میں بساتے نہیں نفرت وہ لوگ
میں کئی روز مر جاتا ہوں
تیری ناراضی مجھے مارتی ہے
میں کئی روز سے جیتا ہوں بہت
تیرا پچھتاوا مجھے زندہ کیسے رکھتا ہے
مجھ سے ناراض نہ ہو
تیری ناراضی سے شامیں بھی اُڑاتی ہیں مذاق
مجھ پہ ہنستی ہیں بہت راتیں بھی
اور مجھے دیر تلک تکتی ہیں برساتیں بھی
مجھ سے ناراض نہ ہو
میں نے ملنا بھی بہت ہے تم سے
اور کرنا ہیں بہت باتیں بھی
مجھ سے ناراض نہ ہو

فرحت عباس شاہ

No comments:

Post a Comment

Shaam K Pech O Kham

شام کے پیچ و خم ستاروں سے زینہ زینہ اُتر رہی ہے رات یوں صبا پاس سے گزرتی ہے جیسے کہہ دی کسی نے پیار کی بات صحنِ زنداں کے بے وطن اش...