Saturday, January 3, 2015

یہ ہم نے دیکھا تھا خواب پیارے،ندی کنارے
زمیں پہ اترے تھے دو ستارے ، ندی کنارے

نجانےگزرے ہیں کتنے ساون، اس آرزو میں
کبھی تو کوئی، ہمیں پکارے، ندی کنارے

وہی شجر ہیں ، وہی ہیں ساۓ____ مگر پراے
ہیں اپنی بستی کے رنگ سارے ، ندی کنارے

اترکے مہتاب_________ بن گیا آئینہ کسی کا
کسی نے بال اپنے یوں سنوارے ، ندی کنارے

کبھی ادھر سے گزر کے دیکھو تو یاد آئیں
وہ قول اپنے ، وچن تمھارے ، ندی کنارے

دعآئیں دیتی ہیں بانسری کی صدائیں شب کو
کبھی نہ سوکھیں یہ سبز چارے ، ندی کنارے

تمہیں نہ دیکھا تو , رائیگاں رائیگاں ، لگے ہیں
شراب . شبنم ، شفق ، شرارے ، ندی کنارے

تمہیں نہ دیکھا تو موج در موج بٹ گئےہیں
یہ شرط ہم اس طرح سے ہارے ، ندی کنارے

یہ گھر کی تنہائیاں تو محسن . سدا رہیں گی
چلو سحر کی ہوا پکارے _______ ندی کنارے

محسن نقوی

No comments:

Post a Comment

Shaam K Pech O Kham

شام کے پیچ و خم ستاروں سے زینہ زینہ اُتر رہی ہے رات یوں صبا پاس سے گزرتی ہے جیسے کہہ دی کسی نے پیار کی بات صحنِ زنداں کے بے وطن اش...