کہا تھا ناں۔۔۔
میری خاموشیوں کو تم کوئی معنی نہیں دینا
جدائی کی سبھی باتیں میری آنکھوں میں پڑھ لینا
میری اس مسکراھٹ میں
اگر محسوس کر پاو
تو میرے آنسووں کی تم نمی محسوس کر لینا
کہیں جو رہ گئی ہے وہ کمی محسوس کرلینا
میری سوچیں۔۔!
میرے الفاظ کا جب روپ لیتی ہیں
تمہارا عکس بنتا ہے
میری نیندوں میں جب جب رتجگوں کے دیپ جلتے ہیں
تمہارا ذکر چلتا ہے
تمہاری یاد ماضی کے دریچے کھول دیتی ہے
تمہاری شبنمی آہٹ یہ مجھ سے بول دیتی ہے
کہا تھا ناں۔۔۔!
ہمارے درمیاں یہ فاصلے قسمت میں لکھے ہیں
اور اس قسمت کے لکھے کو
بدل تم بھی نہیں سکتیں،بدل میں بھی نہیں سکتا
مگر مشکل یہی ہے ہجر کے پر پیچ رستوں پر
سنبھل تم بھی نہیں سکتی،سنبھل میں بھی نہیں سکتا
تو بہتر ہے کہ ہم اک دوسرے کی یاد کے ہمراہ ہوجائیں
کہ اب کے اس محبت سے
نکل تم بھی نہیں سکتیں، نکل میں بھی نہیں سکتا
سنو جاناں۔۔۔
تمہاری شبنمی آہٹ میرے اندر دھڑکتی ہے
مگر جب خامشی سے تم کوئی معنی نہین لیتیں
تو یہ دل روٹھ جاتا ہے
میرے اندر کہیں پر کچھ اچانک ٹوٹ جاتا ہے۔۔۔۔
عاطف سعید
No comments:
Post a Comment