Sunday, January 18, 2015

Wasliyat e marg

" وصلتِ مرگ"


سوچتا ھوں
کہ تہذیب کس زخم کا نام ھے ؟؟
اور تمدّن کے چہرے پہ جتنی خراشیں پڑی ھیں
وہ کس بھید کا بھید ھیں ؟؟
آسمانوں کا تھیٹر تو اپنی جگہ
یہ جو نیلے سیارے کے چہرے پہ دہشت کی سرخی ملی جا رھی ھَے
یہ کیا کھِیل ھَے ؟؟
آدمی ارتقا کا کرشمہ/ خدا کا چہیتا
بقا کی ھوس میں فنا کی طرف، جلد بازی کے رتھ پر کچھ ایسے رواں ھے
کہ خود اپنی مٹی اڑائے چلا جا رھا ھے
تمدّن کا معنی یہی رہ گیا ھے
کہ جو کچھ بھی "مجھ" کو میسر نہیں ھَے وہ سب ھاتھ آئے
زمان و مکاں ،لا مکاں سب کا سب مجھ کو پیروں تلے چاھئیے ھَے
ابھِی چاھئیے ھَے
عجب "میں" کا عالم ھَے
ضدّی، اناگیر، گھٹیا ،توازن سے عاری ھمہ گیر "میں" ھَے
کسی "نارسس" کی طرح اپنے محبوب چہرے پہ نظریں جمائے تکے جا رھی ھَے
زمانے کے نیلام گھر میں سجی چند سستی پرانی کتابیں
کہ جو اپنی بنتر میں صدیوں کی تحقیق باندھے فسردہ پڑی ھیں
مگر "میں" کی مہنگی طبیعت کو سستی پرانی کتابوں کے ملبے سے کیا ھَے 
بھلا وہ تمدّن ھی کیا جو روایت کو گالی نہ دے اور ہلکا نہ سمجھے
کہ "میں" کا تصور ھی خود کو سبھی سے جدا جاننا ھے
خدا جاننا ھے
سگانِ گزشتہ کبھی بھونکتے تھے
مگر اب تو کتّوں نے تنقید بھی سیکھ لی ھے
سو اب ان کی "ھلکان میں" اک تمدّن بھرے دائرے میں بھڑکتی ھَے
اور کاٹتی ھَے
میں پھر سوچتا ھوں
جہالت کی بھی تو کوئی انتہا ھے
اگر انتہا ھے تو اب آدمی 
ارتقا کا کرشمہ/خدا کا چہیتا
خود اپنے ھی دریافت کردہ
کسی جوھری پھول کی مرگ آمیز بدبو میں گھلنے کے باالکل ْقریب آ چکا ھے

علی زریون

No comments:

Post a Comment

Shaam K Pech O Kham

شام کے پیچ و خم ستاروں سے زینہ زینہ اُتر رہی ہے رات یوں صبا پاس سے گزرتی ہے جیسے کہہ دی کسی نے پیار کی بات صحنِ زنداں کے بے وطن اش...