ایک نظم
شہزادی!
اِک روز کہیں
تیرے روپ کی سوہنی کیاری میں
میرے جادوگر ہونٹوں کا فسوں کئی لاکھ گلاب کھلادے گا
مرے عشق چراغ کی لَوتجھ میں
سو طرح کے دِیپ جلا دے گی
مرے لمس کا صدرنگاریشم
تری رگ رگ میں
کئی کھربوں چم چم کرتے ہوئے ایسے جو جگنودہکادے گا
جو بند ہیں میری اور تری آنکھوں کے رازدریچوں میں
جو پھوٹ رہے ہیںتیرے لمس کی خوشبو سے
جو چھوٹ رہے ہیں
میرے خواب کی مٹھی سے
ایوب خاور
No comments:
Post a Comment