Monday, January 19, 2015

سارا آنگن خوشبو سے بھر جاتا ہے
رات گئے جب کوئی دریچہ کھلتا ہے 

خواب کے جھونکے آنکھوں سے ٹکراتے ہیں
نفس نفس اک شعلہ سا لہراتا ہے

ہاتھ دعاؤں سے خالی ہوجاتے ہیں
آنکھوں میں سنّاٹا سا بھر جاتا ہے 

سُرخ گلاب، چنبیلی اور تری خوشبو
دھیان میں ایک انوکھے گھر کا نقشہ ہے 

پیڑوں کی شاخوں میں چڑیا کھو جائے
ہَرے بھرے موسم کا نشہ ایسا ہے 

پورے چاند کا جادو اُس کی آنکھوں میں
آدھی رات کا دِیا ہَوا سے کہتا ہے

خاور اُس کے لہجے کی سرگوشی بھی
برف کو جیسے کوئی آگ دِکھاتا ہے 

ایوب خاور

No comments:

Post a Comment

Shaam K Pech O Kham

شام کے پیچ و خم ستاروں سے زینہ زینہ اُتر رہی ہے رات یوں صبا پاس سے گزرتی ہے جیسے کہہ دی کسی نے پیار کی بات صحنِ زنداں کے بے وطن اش...