Tuesday, May 12, 2015

Ussay Keisay manao gay

اُسے کیسے مناؤ گے

اگر ناراض ہو کوئی
شکایت ہو جسے آنکھیں تمہاری
رخ بدلتے منظروں کی جستجو میں
اُس کے چہرے پر نہیں رہتیں
نگاہیں ٹک نہیں پاتیں
سدا آوارہ رہتیں ہیں
کہ جیسے ہوں
سمندر کی وہ لہریں جو
لبِ ساحل سے ٹکرا کر
کہیں اپنے ہی اندر کی توانائی کو گرما کر
کمال اک شوق سے بہتی ہوں منزل کو
کسی انجان منزل کو
عقب میں دم بدم مٹتے ہوئے
نقشِ مسلسل کے سوا کچھ بھی نہ رہتا ہو
کنارا اک ٹھکانہ ہے
جہاں ساحل تماشا کے لئے ہر موج نے
اک بار آنا ہے
اُسے کیسے بتاؤ گے
کہ یہ سب عین فطرت ہے
ادا و عشوہ و رخسار و خال و خط
ٹھکانہ ہے گھڑی بھر کا
نگاہوں کے لئے
پہلو بدلنے کا بہانہ ہے
مگر یہ سب
اُسے کیسے بتاؤ گے
اگر ناراض ہو کوئی
اُسے کیسے مناؤ گے

حسین الطاف

No comments:

Post a Comment

Shaam K Pech O Kham

شام کے پیچ و خم ستاروں سے زینہ زینہ اُتر رہی ہے رات یوں صبا پاس سے گزرتی ہے جیسے کہہ دی کسی نے پیار کی بات صحنِ زنداں کے بے وطن اش...