Sunday, April 20, 2014

چلو خوابوں کی مٹی میں حقیقت کو مِلائیں ہم

چلو قبریں بنائیں ہم
چلو نمکین اشکوں سے بنائیں عِطر حسرت کا
چلواب تربتِ احساس پر چھڑکیں لہو اپنا
چلو چادر چڑھائیں ہم مزارِ ذات پر اپنی
کہیں سے پتیاں لاؤ
فراقِ یار سے مہکی ہوئیں کچھ پتیاں لاؤ
چلو شمعیں جلائیں ہم سرہانے گور کے اپنے
چلو اب بال کھولیں اور کریں کچھ وجد کی باتیں
چلو اب رقص کرتے ہیں تمناؤں کے مرقد پر
کریں کچھ بین خوابوں کا کریں کچھ ماتمِ ہستی
چلو تعویذ لکھیں ہم اور اِس پر یہ رقم کر دیں
کہ آدم ابنِ آدم کو اسی مٹی میں سونا ہے
یہی تو کھیل باقی ہے جو سب کے ساتھ ہونا ہے

قیس علی

No comments:

Post a Comment

Shaam K Pech O Kham

شام کے پیچ و خم ستاروں سے زینہ زینہ اُتر رہی ہے رات یوں صبا پاس سے گزرتی ہے جیسے کہہ دی کسی نے پیار کی بات صحنِ زنداں کے بے وطن اش...