Friday, July 18, 2014

Muskura rahay hain

یہ ہم جو اپنا بدن خاک میں ملا رہے ہیں 

ہم اپنے بجھتے چراغوں کا غم منا رہے ہیں

ھم اپنے عہد کے وہ مطمئن منافق ہیں
جو اپنے آپ کو ترتیب سے گنوا رہے ہیں

ھوائے عصر ! کوئی تعزیت تو کر ھم سے
ھم اپنے ملک میں ھجرت کا دکھ اٹھا رہے ہیں

یہ بد ترین سیاھی بھِی اپنے بخت میں تھی
خود اپنے گھر کو جلا کر بھی مسکرا رہے ہیں

وہ کار ِ شعر ھو یا کار ِ دین و دنیا،ہم
جو کام کرتے نہیں ھیں وہی بتا رھے ہیں

دُکھا ھوا ھوں میں ان سب سے جو علی زریون !
خدا کے نام پہ خلق ِ خدا مٹا رھے ہیں .. !!

علی زریون

No comments:

Post a Comment

Shaam K Pech O Kham

شام کے پیچ و خم ستاروں سے زینہ زینہ اُتر رہی ہے رات یوں صبا پاس سے گزرتی ہے جیسے کہہ دی کسی نے پیار کی بات صحنِ زنداں کے بے وطن اش...