یہ ہم جو اپنا بدن خاک میں ملا رہے ہیں
ہم اپنے بجھتے چراغوں کا غم منا رہے ہیں
ھم اپنے عہد کے وہ مطمئن منافق ہیں
جو اپنے آپ کو ترتیب سے گنوا رہے ہیں
ھوائے عصر ! کوئی تعزیت تو کر ھم سے
ھم اپنے ملک میں ھجرت کا دکھ اٹھا رہے ہیں
یہ بد ترین سیاھی بھِی اپنے بخت میں تھی
خود اپنے گھر کو جلا کر بھی مسکرا رہے ہیں
وہ کار ِ شعر ھو یا کار ِ دین و دنیا،ہم
جو کام کرتے نہیں ھیں وہی بتا رھے ہیں
دُکھا ھوا ھوں میں ان سب سے جو علی زریون !
خدا کے نام پہ خلق ِ خدا مٹا رھے ہیں .. !!
علی زریون
No comments:
Post a Comment