راوی اور حکایت"
لکھا ہے حضرت سعدی نے اک حکایت میں
"پڑا دمشق میں اک بار اس بلا کا قحط
وہاں کے اہل وفا عشق تک بھلا بیٹھے
حصار حلقہ بے چہرگی میں جا بیٹھے"
نہیں وہ قحط کا عالم ہماری دنیا میں
بہت سے لوگ ہیں نالاں اگرچہ "حصے" پر
کہیں زیادہ کہیں کم سہی، مگر پھر بھی
ہے رزق سب کو میسر، زمیں کے تختے پر
تو پھر یہ کیسے ہوا آج بھی زمانے میں
سرور عشق کو خلقت بھلاۓ بیٹھی ہے
ہر ایک راہ پہ کاسے سجاۓ بیٹھی ہے
جو ہوتے حضرت سعدی تو اب وہ یوں لکھتے
"دمشق وقت میں اب کے عجیب قحط پڑا
کہ عشق بھولنے والے دعا بھی بھول گئے
دلوں سے غم ہوا رخصت تو شرم آنکھوں سے
کہ خود میں گم ہوئے ایسے، خدا بھی بھول گئے...!"
امجد اسلام امجد
No comments:
Post a Comment