Thursday, May 14, 2015

Dariya mur K atay hain

اگرچہ میں سمجھتا تھا
کہ کوئی راستہ لوٹا نہیں کرتا
نہ دریا مڑ کے آتے ہیں
نہ شامیں واپسی کی سوچ پر ایمان رکھتی ہیں
اگرچہ میں سمجھتا ہوں
کہ لمحے تو فقط آگے ہی بڑھتے ہیں
مگر افسردگی کی اس پرانی رو سے لگتا ہے
(جو میرے دل پہ چھائی ہے)
محبت میں تو کچھ بھی طے نہیں ہوتا
محبت کب کسی بھی طے شدہ رستے پہ چلتی ہے
مری افسردگی چپکے سے میرے کان میں کہتی ہے
"فرحت" سوچتے کیا ہو
یہ دیکھو
یہ بھلا کیا ہے
ذرا آنکھیں تو کھولو نیند میں ڈوبے ہوئے غم کی
ہوائیں لوٹ آئی ہیں


فرحت عباس شاہ

No comments:

Post a Comment

Shaam K Pech O Kham

شام کے پیچ و خم ستاروں سے زینہ زینہ اُتر رہی ہے رات یوں صبا پاس سے گزرتی ہے جیسے کہہ دی کسی نے پیار کی بات صحنِ زنداں کے بے وطن اش...