اِسے بهی چهوڑوں اُسے بهی چهوڑوں، تمہیں سبهی سے ہی مسئلہ ہے؟
مِری سمجھ سے تو بالا تر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ پیار ہے یا معاہدہ ہے
"جو تُو نہیں تهی، تو اور بهی تهے۔۔۔ جو تُو نہ ہوگی ، تو اور ہوں گے"
کسی کے دل کو جلا کے کہتے ہو ،" میری جاں ! یہ محاورہ ہے"
ہم آج قوسِ قزح کے مانند ایک دوجے پہ کھل رہے ہیں
مجهے تو پہلے سے لگ رہا تها ، یہ آسمانوں کا سلسلہ ہے
وہ اپنے اپنے تمام ساتهی، تمام محبوب ۔۔۔۔ لے کے آئیں
تُو میرے ہاتھوں میں ہاتھ دے دے، ہمیں بهی اذن مباہلہ ہے
ارے او جاؤ !! یُوں سر نہ کهاؤ !! ہمارا اس سے مقابلہ کیا؟
نہ وہ ذہین و فطین، یارو!! نہ وہ حسیں ہے، نہ شاعرہ ہے
No comments:
Post a Comment