گنوائی کس کی تمنا میں زندگی میں نےوہ کون ہے جسے دیکھا نہیں کبھی میں نے
ترا خیال تو ہے پر ترا وجود نہیںترے لئے تو یہ محفل سجائی تھی میں نے
ترے عدم کو گوارا نہ تھا وجود مراسو اپنی بیخ کنی میں کمی نہ کی میں نے
ہیں میرے ذات سے منسوب صد فسانہء عشقاور ایک سطر بھی اب تک نہیںلکھی میں نے
میرے حریف مری یکہ تازیوںپہ نثارتمام عمر حلیفوں سے جنگ کی میں نے
خراش نغمہ سے سینہ چھِلا ہوا ہے مرافغاں کہ ترک نہ کی نغمہ پروری میں نے
دوا سے فائد مقصود تھا ہی کب کہ فقطدوا کے شوق میں صحت تباہ کی میں نے
سرورِ مئے پہ بھی غالب رہا شعور مراکہ ہر رعایتِ غم ذہن میں رکھی میں نے
غمِ شعور کوئی دم تو مجھ کو مہلت دےتمام عمر جلایا ہے اپنا جی میں نے
رہا میں شاہدِ تنہا، نشینِ مسندِ غماور اپنے کربِ انا سے غرض رکھی میں نے
(جون ایلیا )
No comments:
Post a Comment