Sunday, January 18, 2015

Me Janta hoon

میں جانتا ھوں، وہی ھیں پکارنے والے

بُلا کے گھر میں چراغوں کو مارنے والے

رضائے یار پہ خواھش کو وارنے والے
عجب سخی ھیں محبّت میں ھارنے والے

اب اپنے آپ کو بھی آئینے میں دیکھ ذرا
مِرے وجود میں حیرت اتارنے والے

بس ایک اسم کا سایہ بس ایک جسم کی دھوپ
مِرے سفر کی تھکاوٹ اُتارنے والے

علی زریون


No comments:

Post a Comment

Shaam K Pech O Kham

شام کے پیچ و خم ستاروں سے زینہ زینہ اُتر رہی ہے رات یوں صبا پاس سے گزرتی ہے جیسے کہہ دی کسی نے پیار کی بات صحنِ زنداں کے بے وطن اش...