شکست چشم و نظر کا اسے پتہ نہ لگے
کہ زخم زخم بدن ہو مگر ہوا نہ لگے
یہی رہا جو دل ناصبور کا عالم
ستم شعار کہیں درد آشنا نہ لگے
گلہ نہ کر بہت زود رنج ہے وہ بھی
سخن وہ کہہ کہ سخن فہم کو برا نہ لگے
یہ چاہتے ہیں فقط حرف آشنا میرے
کہ میرے دل کی صدا بھی مری صدا نہ لگے
وہاں تو جو بھی گیا لوٹ کر نہیں آیا
مسافروں کو تیرے شہرکی ہوا نہ لگے
شب فراق کی بے مہریوں سے کب ہے گلہ
کہ فاصلے نہ اگر ہوں تو وہ بھلا نہ لگے
عرفانہ اعجاز
No comments:
Post a Comment