اپنے ہر جرم کی تاویل ھے ہر شخص کے پاس
کون ایسے میں کرے،کیسے کرے
جھوٹ کی اوٹ میں پوشیدہ کسی سچ کی تلاش
جتنی قدریں تھیں،بزرگوں کی امانت وہ سبھی
فالتو بوجھ کی تمثال بنی جاتی ھیں
خواب بازار میں بکنے لگے چیزوں کی طرح
خواہشیں الجھا ھوا جال بنی جاتی ھیں
حق تھے جتنے بھی ہمارے،وہ ھوۓ ضبط بحق سرکار
جتنے ایواں تھے ہمارے،ان میں
سج گۓ اہل چشم کے دربار
بے حسی وہ کہ ضمیروں کو یہاں
کوئی ذلت نہیں کرتی بیدار
اس ہمہ گیر زبونی کا گلہ کس سے کریں
اپنی پہچان بھی جس دور میں مشکل ھو وہاں
آئنے تو ہی بتا اب کہ ملا کس سے کریں
اپنے ہر جرم کی تاویل ھے ہر شخص کے پاس
(امجد اسلام امجد)
No comments:
Post a Comment